ریاکاری قرآن و حدیث کی روشنی میں

ریاکاری_سے_مراد

 اخلاص کا مطلب ہے کوئی کام خالص ﷲ کیلئے کرنا جبکہ ریا کاری کا مطلب ہے ﷲ کو چھوڑ کر دوسروں کو دکھانے کے لئے کوئی کام کیا جائے تاکہ وہ تعریف کریں ، عزت افزائی کریں یا ان سے کوئی اور دنیاوی فائدہ حاصل ہو۔ اس قبیح عادت کے لئے '' ریاء '' ( دکھلاوے ) کی تعبیر قرآن پاک میں جابجا استعمال ہوئی ہے۔

 قرآن_مجید کی روشنی میں ریاکاری_کا_انجام


:ارشادِ_باری_تعالیٰ_ہے_کہ


 يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبۡطِلُوۡا صَدَقٰتِكُمۡ بِالۡمَنِّ وَالۡاَذٰىۙ كَالَّذِىۡ يُنۡفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفۡوَانٍ عَلَيۡهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلۡدًا ‌ؕ لَا يَقۡدِرُوۡنَ عَلٰى شَىۡءٍ مِّمَّا كَسَبُوۡا ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡـكٰفِرِيۡنَ

:ترجمہ

 اے ایمان لانے والو!اپنے صدقات کو احسان جتاکر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملا دو ، جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہےاور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے، نہ آخرت پر ۔ اس کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک چٹان تھی، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی ۔ اس پر جب زور کا مینہ برسا، تو ساری مٹی بہہ گئ اور صاف چٹان کی چٹان رہ گئی۔ ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کرکے جو نیکی کماتے ہیں، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا، اور کافروں کو سیدھی راہ دکھا نا اللہ کا دستور نہیں ہے۔ 
(القرآن - سورۃ_البقرة آیت نمبر 264) 

 ریاکار انسان 

 کی ریاکاری خود ہی اِس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا اور آخرت پر یقین نہیں رکھتا۔ اس کا محض لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرنا صریحاً یہ معنی رکھتا ہے کہ خلق ہی اس کی خدا ہے جس سے وہ اجر چاہتا ہے، اللہ سے نہ اس کو اجر کی توقع ہے اور نہ اسے یقین ہے کہ ایک روز اعمال کا حساب ہوگا اور اجر عطا کیے جائیں گے۔ جو شخص اللہ کی دی ہوئی نعمت کو اس کی راہ میں اس کی رضا کے لیے خرچ کرنے کے بجائے خلق کی خوشنودی کے لیے صرف کرتا ہے، یا اگر خدا کی راہ میں کچھ مال دیتا بھی ہے، تو اس کے ساتھ اذیت بھی دیتا ہے، وہ دراصل ناشکرا اور اپنے خدا کا احسان فراموش ہے۔ اور جب کہ وہ خود ہی خدا کی رضا کا طالب نہیں ہے تو اللہ اس سے بےنیاز ہے کہ اسے خواہ مخواہ اپنی رضا کا راستہ دکھائے۔ ___________________________________________ 

حدیث_نبویﷺ کی روشنی میں ریاکاری کا انجام

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے کہ جو لوگوں کو ریاکاری کے طور پر دکھانے کے لیے کام کرے گا اللہ قیامت کے دن اس کی ریاکاری کا حال لوگوں کو سنا دے گا اور فرمایا کہ جو لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تکلیف میں مبتلا کرے گا۔

(صحیح_البخاری:7152)

______________________________________________ 

:ریاکاری_کے_نقصانات

١:ریاکاری کا سب سے بڑا نقصان اللہ پاک کی ناراضگی اور غضب ہے کیونکہ ریا کاری شرکِ اصغر ہے ، شرک چاہے اصغر ہو یا اکبر کہلاتا شرک ہی ہے اور اللہ پاک کو نا اہل شرک بس آئی ہے اور نہ ہی شرک کرنے والا انسان۔ 

شرک_اصغر_کی_تعریف 

 شرک اصغر سے مراد نیت و مقاصد اور ارادوں میں شرک ہے جیسے ریاکاری و شہرت طلبی۔ مثلا کوئی شخص کوئی ایسا کام کرے جس سے مقصود اللہ کی خوشنودی ہوتی ہے تاہم وہ اس عمل مثلا نماز اور قراءت وغیرہ کو اس لئے اچھے انداز میں کرے تاکہ اس پر اس کی تعریف و ثناء ہو۔


 ٢: ریا کار آدمی کا کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں اور وہ منافقین کی صف میں شامل ہے۔

 ٣: ریاکار انسان کی ریاکاری کی وجہ سے اُس کی ریاکاری میں کی جانے والی نیکیاں اور باقی تمام دوسری نیکیاں ضبط کر لی جاتی ہیں
۔ ۴: دُنیا میں بھی ریاکار کو ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اور آخرت میں بھی ذلت و رسوائی اور اللہ پاک کا غضب و عذاب اُس ریا کار انسان کا مقدر بنتی ہے۔ ______________________________________________

 لہٰذا اپنی دُنیا اور آخرت اپنے ہی ہاتھوں تباہ مت کیجئے ، ہر اُس گناہ کے اللہ پاک سے معافی مانگیں جو اللہ پاک کے غضب کا سبب بنے۔ اور اپنی نیتوں اور ارادوں کو آنے والے اعمال کے لیے صاف کیجئے۔ یہی آپ کی دنیا اور آخرت کے لئے بہتر ہے۔ اور اپنے سابقہ گناہوں اور اعمال کے لئے اللہ پاک سے معافی طلب کرتے رہیں۔ بیشک اللہ پاک توبہ قبول فرمانے والا ہے ، توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ ________________________________________________

  اور اللہ پاک سے دعا🤲🏻 کرتے رہیں

 اے اللہ! 🤲🏻 میرے دل کو نفاق سے ، میرے عمل کو ریا و نمود سے ، میرے اعمال اور نیتوں کو شرک سے ، میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھ کو خیانت سے پاک فرما۔🤲🏻 اے اللہ! 🤲🏻 میں جان بوجھ کر تیرا شریک ٹھہرانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور لاعلمی میں ایسا عمل کرنے پر پر تجھ سے مغفرت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! 🤲🏻 تو ہماری سابقہ خطاؤں کو معاف فرما اور نیک اور صالح اعمال کی توفیق عطا فرما جن کا مقصد صرف تیری رضا اور خوشنودی ہو۔🤲🏻

 (آمین اللھم آمین)

تبصرے