قربانی سنّتِ ابراہیمی ایک پیغام


 قربانی سنّتِ ابراہیمی تو ہے ہی لیکن ساتھ ہی ساتھ شعائر اللہ (اللہ پاک کی نشانیوں) میں سے ایک نشانی بھی ہے۔

:شعائر_اللہ_سے_مراد

شعائر الہیہ سے ہماری مراد وہ ظاہری ومحسوس امور اور اشیاء ہیں جن کا تقرر اسی لیے ہوا ہے کہ ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے۔ ان امورواشیاء کو خدا کی ذات سے ایسی مخصوص نسبت ہے کہ ان کی عظمت وحرمت کو لوگ خود اللہ تعالیٰ کی عظمت وحرمت سمجھتے ہیں

کبھی سوچا ہے کہ اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اِس قربانی اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی کیوں بنایا ؟ 🤔

آخر کیوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کو رہتی دُنیا تک قائم و دائم رکھا ، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کے اعزاز میں سب مسلمانوں پر قربانی کو فرض کر دیا گیا " سنّتِ ابراہیمی " کا نام دے کر ؟🤔

:جواب

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک خواب دیکھا تھا کہ جس میں ان کو اللہ پاک کی جانب سے یہ حکم ہوا کہ وہ اپنے لخت جگر کو اللہ پاک کی رضا کی خاطر اللہ پاک کی راہ میں قربان کر رہے ہیں ، یہ ایک خواب تھا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ پاک کی جانب سے دکھایا گیا اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام چاہتے تو اسے ایک خواب سمجھ کر درگزر بھی فرما سکتے تھے ، 

مگر نہیں! 

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے خواب کا ذکر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کیا ، تو جواب میں حضرت اسماعیل علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ بابا آپ اپنے ایک خواب کی بنیاد پر اپنے لخت جگر کو قربان کرنا چاہتے ہیں ، بلکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا جواب یہ تھا کہ

"اے میرے والد محترم ! 

آپ کو اللہ پاک کی طرف سے جو حکم ہوا ہے آپ اللہ پاک کے حکم کو پورا کیجئے اللہ نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے "

دونوں باپ بیٹے نے اللہ پاک کے فیصلے پر اففف تک نہ کی ، نا ہی اللہ پاک سے دربار میں کوئی عرضی دی ، نہ کوئی گزارش ، باپ نے خواب دیکھا اور بیٹے نے کہا کہ اس خواب کو آپ حقیقت میں بدل دیجئے ، (ان شاء اللہ) اگر اللہ پاک نے چاہا تو ہمیں صابرین میں سے پائے گا ، تو پھر جیسے ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ پاک کے اس فیصلے کی تکمیل کی تو نہ صرف اللہ پاک نے انہیں ان کی اولاد واپس کی بلکہ ساتھ ہی ساتھ ان کی اس قربانی کو رہتی دُنیا تک قائم رکھا ، اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی بنا دیا اور دین اسلام کا ایک اہم رکن بنا کر مسلمانوں پر فرض قرار دیا۔

جانتے ہیں اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اتنا بلند مقام عطا فرمایا اور ان کی آزمائش کی تکمیل پر انہیں اتنا زیادہ کیوں نہ آگیا ؟🤔

:جواب

اس کا جواب قرآن مجید کی اس آیت سے مکمل واضح ہو جائے گا جس میں انسان کی اولاد کو اِنسان کی سب سے بڑی آزمائش کہا گیا ہے۔


:قرآن مجید میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں کہ

وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَاَوۡلَادُكُمۡ فِتۡنَةٌ  ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ

:ترجمہ

اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامانِ آزمائش ہیں اور اللہ کےپاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے ؏(

القرآن - سورۃ نمبر 8 الأنفال)
آیت نمبر28)


دُنیا میں سب سے بڑی آزمائش ایک اِنسان کے لیے اس کی اولاد ہوتی ہے ، اور سب سے زیادہ پیاری بھی اِنسان کو اس کی اولاد ہی ہوتی ہے۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اِسی آزمائش سے گزارا گیا ، ایک طرف اولاد کی محبت تھی تو دوسری طرف اللہ پاک کی محبت ، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بڑی ہمت اور سمجھ داری کے ساتھ دُنیا کی محبت کو ، اولاد کی محبت کو اپنے رب کی محبت پر غالب نہیں آنے دیا بلکہ اللہ پاک کی محبت جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں تھی دُنیا کی محبت پر غالب آگئی۔ 
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایمان ، صبر ، یقین اور توکل اللہ کے ساتھ اللہ پاک کے حکم پر ثابت قدم رہے اور اُس حکم کو خواب سے حقیقت تک پہنچایا ، تو یہ کوئی عام آزمائش نہیں بلکہ بہت بڑی آزمائش تھی ایک باپ کے لیے بھی اور ایک بیٹے کے لیے بھی ، مگر دونوں باپ بیٹے اللہ پاک کی طرف سے آئی اس آزمائش میں اللہ پاک کے فضل و کرم سے ثابت قدم بھی رہے اور سرخرو بھی ہوئے ، اور انعام ایسا کہ رہتی دُنیا تک سب کو یاد رہا اور رہے گا۔


(قربانی_سنّتِ_ابراہیم)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ پاک تک نہ ہماری قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی خون بلکہ اس تک ہماری نیت اور تقویٰ پہنچتا ہے ، اور اس بات کو سورۃ الحج کی اس آیت میں واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے


 لَنۡ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُـوۡمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰـكِنۡ يَّنَالُهُ التَّقۡوٰى مِنۡكُمۡ‌ؕ  

:ترجمہ
 نہ اُن کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اُسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی بھی اسی بات کا ثبوت ہے۔

 (37:سورۃ الحج ، آیت نمبر )

_____________________________________رہتا__________________________


:خلاصہِ کلام

جب کبھی اللہ پاک کی راہ میں اپنی کوئی محبوب چیز قربان کرنے کا موقع ملے تو نہ ہی گھبرائیں اور نہ ہی پیچھے ہٹیں بلکہ اللہ پاک کی رضا کی خاطر اپنی محبوب چیز کو اللہ پاک کی راہ میں قربان کر دیں ، #ان_شاء_اللہ ، اللہ پاک بہترین اجرِ عظیم عطا فرمانے والا ہے ، اللہ پاک آپ کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دے گا بلکہ آپ کو بہترین سے نوازے گا اور آپ بلند مقام و مرتبہ عطا فرمائے گا اس دنیا میں بھی اور یومِ آخرت میں بھی۔ 


یہ دُنیا اور یہاں کا ہر رشتہ ہر چیز ہمارے لیے آزمائش ہے ، دھوکہ ہے اور اللہ پاک ہم سب کو اس آزمائش سے گزارتا رہتا ہے تاکہ وہ جان سکے کہ کیا میرے بندے کے دل میں دُنیا کی محبت میری محبت پر غالب تو نہیں۔۔۔!!!!!
تو جو انسان اس آزمائش و امتحان میں کامیاب ہوتا ہے ( یعنی اللہ پاک کی رضا اور محبت اسے اس دنیا اور یہاں کی تمام چیزوں سے بڑھ کر اور افضل ہوتی ہے) تو اللہ پاک اپنے ایسے بندوں کو دُنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو فرماتا ہے اور اُس اِنسان کے دل میں اللہ پاک کی محبت اُس کے لئے دُنیا میں بھی عزت و کامیاب کا سبب بنتی ہے اور یومِ آخرت میں بھی ، جو بندے اللہ پاک کو محبوب رکھتے ہیں اللہ پاک بھی انہیں محبوب رکھتا ہے ، اللہ پاک اپنے محبوب بندوں کو دُنیا میں بھی بےحساب نعمتوں ، رحمتوں ، برکتوں سے نوازتا ہے ، اور آخرت میں بھی ان کے لیے ایسے ایسے انعامات تیار کر رکھے ہیں جنھیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی کسی کان نے سنا۔ 


لہٰذا کبھی خود کو اور اپنی خواہشات کو اللہ پاک کے حکم اور اللہ پاک کی رضا و محبت پر غالب مت آنے دیجئے گا ، اللہ پاک کے ہر حکم کو خوش دلی سے مانئیے اس کی رضا پر راضی ہو جائیے ، اور اس پاک ذات کو محبوب رکھیں اور سب سے اوپر رکھیں #ان_شاء_اللہ نہ ہی دُنیا میں کبھی غم و بےسکونی کا شکار ہوں گے اور نہ ہی آخرت میں ذلیل و رسوا ہوں گے۔
اللہ پاک جن سے محبت رکھتا ہے اُن سے محبت کیجیے ، جن کاموں کے کرنے کا حکم دیتا ہے اُن کو خوشدلی سے مکمل کیجئے ، حقوق_اللہ کی ادائیگی سے پہلے حقوق_العباد کی ادائیگی کو جلد از جلد مکمل کر لیجئے ، کسی کا حق مت کھائیے ، کسی پر ظلم مت کیجئے ، کسی کو دھوکا مت دیں ، اور جن کاموں کے کرنے کا اللہ پاک نے حکم دیا ہے ان کی تکمیل پر زور دیجئے اور تھوڑا وقت نکال کر سوچیں کہ کہیں کسی ایسے کام میں تو نہیں ملوث یا بھول میں جانے انجانے میں کوئی ایسا کام تو نہیں کر دیا جو اللہ پاک کی ناراضگی کا سبب بنے۔۔!!!۔

اگر ایسا ہے تو آپ اللہ پاک کی طرف واپس لوٹ آئیے ، توبہ کر لیجئے اور اب سے پختہ عزم کریں کہ ہر وہ کام کرنا ہے جو اللہ پاک کی محبت کا سبب بنے اور ہر اس کام سے دور رہنا ہے جو اللہ پاک کی ناراضگی کا سبب بنے (ان_شاء_اللہ) بیشک اللہ پاک توبہ قبول فرمانے والا ہے اور توبہ کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔ اللہ پاک مجھ سے آپ سے اور ہم سب سے راضی ہو (آمین_اللھم_آمین ) اپنی قیمتی دُعاؤں میں ایک دوسرے کو یاد رکھیے گا۔

(جزاک_اللہ_خیرا_کثیرا)

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ریاکاری قرآن و حدیث کی روشنی میں