ویلنٹائن ڈے اور اِسلام
ویلنٹائن_ڈے_بےحیائی_پھیلانے_کا_عالمی_دن
دینِ اِسلام اور مغرب قوم میں مُحبت کے اظہار کا طریقہ:
دینِ اِسلام اور مغرب قوم میں مُحبت کے اظہار کا طریقہ:
اقصیٰ:
سدرہ تمہیں پتا ہے کل کونسا دن ہے؟
سدرہ:
کل 14th فروری ہے۔۔۔
اقصیٰ:
ہاں وہ تو ہے مگر کل کا دن بہت خاص ہے اُن لوگوں کیلئے جو ایک دوسرے سے مُحبت کرتے ہیں یا یوں کہہ لو کل مُحبت کرنے والوں کا عالمی دن ہے کہ جس دن ہر پیار کرنے والا اپنے محبوب سے محبت کا اظہار کرے گا ایک دلچسپ انداز سے، کل ویلنٹائن ڈے ہے پاگل۔۔۔
سدرہ:
ویلنٹائن ڈے مُحبت کرنے والوں کا عالمی دن ہاہاہاہا۔۔۔
اقصیٰ:
تم ہنس کیوں رہی ہو میں نے کونسا لطیفہ سنا دیا جو تمہیں ہنسی آ رہی۔
سدرہ:
کچھ نہیں اچھا چھوڑو نہیں ہنستی میں تم یہ بتاو کل لوگ کیسے ایک دوسرے سے اظہارِ مُحبت کریں گے؟؟؟
اقصیٰ:
یار وہی کوئی اپنی محبوبہ کو پھول دے گا تو کوئی اپنے محبوب کیلئے گفٹ لے گی، دونوں ایک دوسرے کو پرپوز کریں گے (l Love you) بول کر، باہر گھومنے جائیں گے، ایک دوسرے کے ساتھ ٹائم سپینڈ کریں گے (You know dating) ایک دوسرے کو گفٹ، گلاب اور چاکلیٹ دیں گے، باقی تم سب جانتی تو ہو بچی مت بنو اب!!!
سدرہ:
ہاں جانتی ہوں مگر سننا چاہتی تھی کے ہمارے مسلم معاشرے کی سوچ کس حد تک مغربی تہذیب کے ہاتھوں مفلوج ہو چکی ہے اور کس قدر ہم اپنے کُھلے دشمن مردود کے جال میں پھنس چکے ہیں، ہائے افسوس!!!!
اقصیٰ:
مطلب کیا ہے تمہارا صاف صاف بتاو؟؟؟
سدرہ:
اچھا تو پھر سنو!
ہمارا دین، دینِ اِسلام ما شاء اللہ سے بہت پیارا اور خوبصورت دین ہے کہ جس میں مُحبت جیسے پاک صاف رشتے شروع سے لے کر آخر تک پاک رکھنے کا پورا نا صرف انتظام کیا بلکہ ہمیں طریقہ بھی بتایا تاکہ ہم اپنی مُحبت کو حاصل کرنے اور ہمیشہ پاک رکھنے کیلئے ہمیشہ اُسی صحیح راستے کا استعمال کریں اور ساتھ ہی ساتھ کبھی غلط رستے پر نا جائیں۔
اللہ پاک جاتا ہے کہ مُحبت ایک فطری اور پاک جذبہ ہے تو اُس رحمٰن نے مُحبت کرنے سے اور اُس محبت کو حاصل کرنے سے منع نہیں فرمایا بلکہ اِنسان اِنسان سے مُحبت کا احترام بھی کیا اور اُس مُحبت کو حلال بنانے یعنی (اللہ پاک کی رضا کی مہر/ اللہ پاک کی مرضی کہ جس میں ہم انسانوں کا ہی فائدہ ہے) کا حلال طریقہ قرآن مجید میں بیان فرمایا تاکہ ہم شیطان مردود کی دشمنی اور اللہ پاک ناراضگی سے بچ سکیں اور وہ راستہ یہ ہے👇
ارشادِ ربانی ہے کہ:
فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَـكُمْ مِّنَ النِّسَاۤءِ
ترجمہ:
"تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو"
(سورت النساء آیت نمبر:3)
پھر ہمارے پیارے نبی رسول اللہﷺ کا بھی دو مُحبت کرنے والوں کیلئے ارشادِ گرامی ہے کہ:
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو شخص کے درمیان محبت کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی۔
(سنن ابنِ ماجہ:1847)
اور جسے انگریزی زبان ہے لوگ (dating) کہتے ہیں وہ انسان کے ایمان کو برباد کرنے، کبیرہ گناہ کی طرف لے جانے، اس گناہ کا ارتکاب کرنے اور شیطان مردود کا انسان کو ہلاکت میں ڈالنے کا سب سے بڑا جال ہے اور وہ جال ہے ایک مرد و عورت کا تنہائی میں ساتھ ہونا، کیونکہ جہاں یہ دونوں تنہا ہوئے وہی پر تیسرا شیطان ہوتا ہے جو انکو بےحیائی کی طرف لے جاتا ہے۔
حدیثِ مُبارکہ ہے کہ:
"خبردار! جب بھی کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت میں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے"
(الجامع الترمزی: 2165)
اقصیٰ:
سدرہ یار تم نے تو سچ میں بلکل سو فیصد صحیح بات کی اور وہ بھی قرآن و حدیث کے دلائل کے ساتھ۔ سچ میں ہماری نوجوان نسل کی سوچ و عمل مغرب کی قید میں ہے، جو کہ شیطان مردود کی پھیلائی ہوئی اور اللہ پاک کی رضا و مُحبت سے دور کرنے والی ہے۔ جو تھوڑا سا بھی علم و شعور رکھتا ہوگا وہ تمہاری بات کو ضرور سمجھے گا اور اِس بےحیائی کے دن کا انکار بھی ضرور کرے گا اور اُن اعمالِ شیاطین سے بھی خُود کی حفاظت کرے گا،
(اِن شاء اللہ)
سدرہ:
(اِن شاء اللہ )
ہم مسلم ہے تمام قوموں سے افضل اور ہمارا دین، دینِ اِسلام دُنیا کا سب سے افضل و خوبصورت دین ہے، ہمارا وہ مقام نہیں کہ ہم کسی قوم کی پیروی یا غلامی کریں بلکہ ہمیں خود کو ایسا بنانا ہے کہ دوسری قومیں ہمارے دین کی پیروی کریں۔
ہمارے ہاں عزت کی جاتی ہے اور سنبھالی جاتی ہے ناکہ اتاڑی جاتی یا نیلام کی جاتی ہے۔
ہم مُحبت کا اظہار پھول دے کر نہیں پیغامِ نکاح بھیجوا کر کرتے ہیں۔
ہم مُحبت کو نفس کی حوس مٹا کر ناجائز طریقے سے گندا کر کے حاصل نہیں کرتے بلکہ نکاح کر کے پاک طریقے سے، اِسلام کے بتاۓ ہوئے طریقے سے حاصل کرتے ہیں۔
ہم مُحبت کے نام پر عزت نہیں اتاڑتے زنا کی صورت میں بلکہ اپنی مُحبت کو عزت کا لباس پہناتے ہیں نکاح کی صورت میں۔
ہم اُس رستے پر نہیں چلتے جو ہمیں اللہ پاک سے دور کرے یا اسکی ناراضگی کا سبب بنے، اور شیطان مردود کے قریب اور جہنم میں جانے کا سبب بنے۔
ہم اپنے والدین کی عزت و مان اور یقین کو مٹی میں نہیں ملاتے، اُنکے لاڈ و پیار کی دھجیاں نہیں اڑاتے، اُنکی عزت و فرمانبرداری ہمارا فرضِ اوّل ہے، ہم کوئی ایسا کام نہیں کرتے جس کی وجہ سے اُنکی عزت میں کمی آئے یا انکی معاشرے میں ذلت و رسوائی کا سبب بنے۔
سمجھی بنتِ حوّا___!!!
اقصیٰ:
ہاں جی سمجھ گئی مس سدرہ بس اللہ مہربان کرے باقی سب کی سمجھ میں بھی یہ بات آ جاۓ کہ مُحبت ہے تو پاک رکھو ، حلال رکھو ، عزت کی چادر پہناو ، نکاح کو مُحبت کا عالمی دن بناو۔
سدرہ:
اللہ پاک سب کو ہدایت عطاء فرماۓ ، نیک و صحیح عمل کرنے کی توفیق دے اور صراطِ مستقیم پر چلائے۔
(آمین اللھم آمین)
❤🖤 خُود_سے_خُدا_تک
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں