صنفِ نازک (بیٹیاں) اور اِسلامی تعلیمات
••• صنفِ نازک (بیٹیاں) اور اِسلامی تعلیمات آج کی میری یہ تحریر اُن لوگوں کے لئے ہے جو بیٹیوں کی پیدائش کو بُرا جاننے والے، انکی پیدائش پر افسردہ ہونے والے، انہیں بُرا بھلا کہنے اور دل ہی دل میں کوسنے اور نفرت کرنے والے، انہیں بوجھ سمجھنے والے اور زندہ درگور کرنے والے، اُنہیں حقیر سمجھنے اور اُن کے حقوق کی ادائیگی میں ناانصافی کرنے والے ہیں۔ اگر آپ مسلمان ہیں اور مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں، اُمّتی رسول اللہﷺ ہیں تو پھر یہ بھی جانتے ہونگے کے دینِ اِسلام اعتدال و مساوات، اور انصاف پسندی کا درس دیتا ہے اور اور اِن اخلاقی خوبیوں کو قائم کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے، ہمارے دین میں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ماسوائے تقویٰ کے تو پھر آپ کو کس نے کہہ دیا کہ بیٹا بیٹی سے افضل ہے؟ :جبکہ اللہ سبحانہ و تعالی نے ارشاد فرمایا اِنَّ اَكْـرَمَكُمْ عِنْدَ اللّـٰهِ اَتْقَاكُمْ ۚ بے شک زیادہ عزت والا تم میں سے اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ (سورة الحجرات: 18) جب اللہ پاک نے یہ نہیں کہا کے میری نظر میں لڑکے زیادہ عزیز تر ہیں اور لڑکیا...