صنفِ نازک (بیٹیاں) اور اِسلامی تعلیمات
••• صنفِ نازک (بیٹیاں) اور اِسلامی تعلیمات
آج کی میری یہ تحریر اُن لوگوں کے لئے ہے جو بیٹیوں کی پیدائش کو بُرا جاننے والے، انکی پیدائش پر افسردہ ہونے والے، انہیں بُرا بھلا کہنے اور دل ہی دل میں کوسنے اور نفرت کرنے والے، انہیں بوجھ سمجھنے والے اور زندہ درگور کرنے والے، اُنہیں حقیر سمجھنے اور اُن کے حقوق کی ادائیگی میں ناانصافی کرنے والے ہیں۔
اگر آپ مسلمان ہیں اور مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں، اُمّتی رسول اللہﷺ ہیں تو پھر یہ بھی جانتے ہونگے کے دینِ اِسلام اعتدال و مساوات، اور انصاف پسندی کا درس دیتا ہے اور اور اِن اخلاقی خوبیوں کو قائم کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے، ہمارے دین میں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ماسوائے تقویٰ کے تو پھر آپ کو کس نے کہہ دیا کہ بیٹا بیٹی سے افضل ہے؟
:جبکہ اللہ سبحانہ و تعالی نے ارشاد فرمایا
اِنَّ اَكْـرَمَكُمْ عِنْدَ اللّـٰهِ اَتْقَاكُمْ ۚ
بے شک زیادہ عزت والا تم میں سے اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے۔
(سورة الحجرات: 18)
جب اللہ پاک نے یہ نہیں کہا کے میری نظر میں لڑکے زیادہ عزیز تر ہیں اور لڑکیاں کمتر تو پھر
••• ! اے ابن آدم
تم نے کس بنیاد پر یہ تصور قائم کر لیا کہ بیٹے بیٹیوں سے افضل ہیں؟ اور بیٹیوں کی پیدائش شرمناک یا ذلت اور رسوائی کا سبب ہے؟ کیوں تم بیٹی پیدا ہونے پر اپنی بیوی کو کوستے ہو اور اُسے طلاق کی دھمکیاں دیتے ہو؟ عورت کی پیدائش پر کیوں ماتم کرتے ہو؟ ایک بات بتاؤ کیا جس نے تمہیں پیدا کیا وہ ایک عورت نہیں؟ اور جو تمہاری نسل آگے بڑھا رہی ہے تمہیں بیٹے اور بیٹیاں دینے کا سبب بنی ہے وہ بھی تو ایک عورت ہی ہے نہ تو پھر ایک لڑکی کی پیدائش پر اظہارِ ناپسندیدگی کیوں؟ اور تمہیں کس نے کہہ دیا کہ بیٹیوں کا پیدا ہونا بُرا اور بیٹوں کا پیدا ہونا خوش نصیبی ہے؟ آخر تم کیوں نہیں سمجھتے ہو کہ بیٹی یا بیٹے کا پیدا ہونا تمہاری بیوی کے ذمے نہیں بلکہ اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے بیٹے دے جسے چاہے بیٹیاں
:ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
اللہ زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے ۞ جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے ۞
(القرآن - سورۃ_الشورى آیت نمبر 49-50)
اور اللہ پاک کے فیصلوں کا انکار کرنے والا کفر کرنے والوں کے زمرے میں آتا ہے، اولاد تو اللہ کی عطا ہے اور اللہ پاک کی عطا کردہ چیزوں پر شکر الحمد للہ کہنا چاہیے نہ کہ اس کی ناشکری اور ناقدر کرنی چاہیے۔
:صنفِ نازک (بیٹیاں) اور ایک نظر رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ پر
رسول اللہﷺ کی حیات طیبہ ہمارے لیے زندگی گزارنے کے لئے بہترین نمونہ (guideline ) ہے۔ تو آئیے دیکھتے ہیں رسول اللہﷺ نے بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی کس قدر تلقین فرمائی ہے اور آپؐ کا اپنے صاحبزادیوں کے ساتھ حسن سلوک کیسا تھا
: حدیث کی روشنی میں صنف نازک(بیٹیوں)کے ساتھ حسن سلوک
رسول اللہﷺ نے اپنی بیٹی فاطمہ الزہرہؓ سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا
" فاطمہ میرے جسم کا ٹکرا ہے۔ "
(صحیح بخاری:3714)
مگر افسوس کہ آج ہم خُود کو مسلمان اور اُّمتی رسولؐ تو کہتے ہیں لیکن اُس طرزِ حیات پر چل نہیں رہے، بلکہ ہم میں سے کچھ لوگوں کی سوچ و عمل دورِ جہالت کے طرزِ حیات جیسا ہی ہے بیٹے کو بیٹی پر ترجیح دیتے ہیں، اور بیٹوں سے محبت میں بیٹیوں کے حقوق سلب کر لیتے ہیں۔
قبل از اِسلام عرب میں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کا رواج تھا، لڑکی کی پیدائش کو بُرا اور شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا تھا، جیسا کہ قرآن مجید نے خود اس کی منظر کشی کی ہے۔
”وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُھُمْ بِالْاُنْثٰی ظَلَّ وَجْھُہ مُسْوَدًّا وَّھُوَ کَظِیْمٌ، یَتَوَارَیٰ مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْءِ مَا بُشِّرَ بِہ“ (سورة النحل: ۵۸)
" جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ غصہ سے بھر جاتا ، لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس برائی کی خوشخبری کے سبب سے جو اسے دی گئی،"
بیٹیوں کو دینِ اِسلام نے وہ مقام دیا کہ جو دینِ اِسلام۔ کے سوا کسی اور مذہب نے نہیں دیا، عورت اگر بہن یا بیٹی ہے تو جہنم کی راہ میں دیوار۔
دینِ_اِسلام_میں_بیٹیوں_کی_فضیلت_و_اہمیت
بیٹیوں کی پیدائش اور اُن کے ساتھ حسن سلوک کرنے والوں پر اللہ پاک کے انعامات
:جنت میں رسول اللہﷺ کی رفاقت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی ، قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح آئیں گے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا ۔
(صحیح المسلم6695)
: جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ان بچیوں کی وجہ سے خود کو معمولی سی بھی تکلیف میں ڈالا تو بچیاں اس کے لیے دوزخ سے بچاؤ کے لیے آڑ بن جائیں گی۔
(صحیح البخاری:1418)
: جنّت میں دخول کا سبب
دینِ اِسلام کے ہادی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف عورت کو جینے کا حق دیا اور اس کو معاشرہ میں بلند مقام عطا کیا ؛ بلکہ عورت کے وجود کو خیر وبرکت کا باعث او ر نزولِ رحمت کا ذریعہ اور اس کی پرورش کو دخولِ جنت کا ذریعہ بتایا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس مسلمان کی دو بیٹیاں ہوں ، پھر جب تک وہ اس کے پاس رہیں یا یہ ان کے پا س رہے اور وہ ان کے ساتھ اچھا برتاوٴ کرے تو وہ دونوں بیٹیاں اس کو ضرور جنت میں داخل کرادیں گی۔
(ابن حبان: باب ما جاء فی الصبر والثواب، حدیث:۲۹۴۵)
بیٹیوں کی پیدائش کو بُرا جاننے والے اور انہیں زندہ درگور کرنے والوں پر اللہ پاک کا عذاب و اظہارِ نفرت:
روزِ قیامت ہر صغیرہ و کبیرہ کئے جانے والے گناہوں کی بازپرس اللہ پاک گناہ کرنے والے ملزم سے کرے گا مگر بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے والوں سے اُنکے اس گناہِ اعظیم کے سبب نفرت کا اظہار کرتے ہوئے ہمکلام ہونا ہی پسند نہیں فرماۓ گا ، بلکہ اُس مظلوم بیٹی سے پوچھے گا کہ آخر وہ کس گناہ میں ماری گئی؟
:ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ
وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُئِلَتۡ ۞ بِاَىِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتۡۚ ۞
اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا ۞ کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟ ۞
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں